7 اپریل 2011 - 19:30

بحرین پر عرب ریاستوں کی فوجیں چڑھانے والے امریکے وزیر دفاع نے الزام لگایا ہے کہ ایران بحرین میں مداخلت کررہا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع نے آل سعود کی ضیافت میں ایران پر بحرین میں مداخلت کا الزام لگایا ہے جبکہ آل سعود کے فوجی بحرین میں ظلم و جبر کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں اور امریکی وزیر دفاع نے نہ صرف آل سعود کی جارحیت اور سعودیوں کے ظلم و جبر پر کوئی تنقید نہیں کی ہے بلکہ سعودی عرب، امارات، قطر اور کویت کی فوجیں امریکی وزیر دفاع کے دورہ بحرین کے بعد اپنے امریکی آقا کے فرمان پر بحرین میں داخل ہوئیں، اور اس قوم پر مظالم کا بازار گرم کیا ہے؛ لوگوں کا قتل عام کیا، چادر اور چاردیواری کی بے حرمتی کی، خواتین، بوڑھوں خاص طور پر ڈاکٹروں، نرسوں، وکیلوں، روزنامہ نویسوں، اساتذہ، طلبہ، تاجروں، دکانداروں اور معاشرے کے تمام طبقات کے 400 سے زائد افراد پابند سلاسل کیا اور آج کی ایک رپورٹ کے مطابق 200 بحرینی قیدیوں کو رابرٹ گیٹس کی سعودی عرب میں موجودگی میں ہی شہر دمام کی ایک جیل میں منتقل کیا گیا ہے۔
تا ہم عراق میں 160 ہزار فوجی تعینات کرکے ایران پر عراق میں مداخلت کا الزام لگانے والے امریکہ نے اس بار اپنے حلیفوں کو بحرین میں تعینات کردیا ہے اور ایران پر مداخلت کا الزام لگا رہا ہے۔
رابرت گیٹس نے کل آل سعود کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی اور ملاقات کے بعد کوئی بھی ثبوت پیش کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران بحرین کی صورت حال سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
رابرٹ گیٹس نے امریکہ میں اپنے پیشروؤں کی طرح نامہ نگاروں کو یہ نہین بتایا کہ ان کے پاس موجودہ ثبوت کیا ہے؟
عجیب یہ ہے کہ رابرٹ گیٹس بحرین کے دورے پر آتا ہے تو جائز مطالبات کے لئے دھرنا دینے والے نہتے شہریوں پر سعودی اور خلیفی افواج نے ٹینک چڑھائے اور جب رابرٹ گیٹس اپنے مخلص یہود و نصاری کے وفادار سعودی خاندان کی ضیافت میں حاضر ہوئے تو بحرین میں قتل و غارت، اغوا اور دہشت گردی، قید و بند اور جبر و ظلم کا بالکل نیا دور شروع ہوا۔
اب یہ سوال عالمی رائے کے ذہنوں میں کھٹک رہا ہے کہ یہ کیسی بات ہے کہ ایران کی طرف سے بحرینی آل خلیفہ کے حکام کو نسل کشی سے اجتناب کرنے کی نصیحت تو مداخلت سمجھی جارہی ہے جبکہ بحرین پر قبضہ اور عوام کے قتل عام اور گھٹن کی فضا قائم کرنے کے لئے امریکیوں کی مرضی سے سعودیوں اور نہیانیوں کے براہ راست کردار کو مداخلت کا نام نہیں دیا جاتا!؟ کیا ایک نہتی قوم کو کچلنا اور دبانا اور حقوق سے محروم کرنا اور کام کاج سے محروم کرنا اور قتل یا زخمی کرنا - وہ بھی امریکہ کے حکم سے اور امریکہ کے حلیفوں کے براہ راست اقدام سے - مداخلت نہیں ہے اور ظلم کی مذمت کرنا، مداخلت ہے؟
امریکہ کا کردار ہمیشہ اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر تشکیل پاتا ہے، اس نے عرب ممالک کو خاندانوں میں بانٹ کر اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے منصوبہ بنایا تھا اور اب ان خاندانوں کی حفاظت کرکے بھی اپنے مفادات کا تحفظ کررہا ہے لیکن سادہ لوح سمجھتے ہیں کہ سعودی اور نہیانی فورسز بحرین میں داخل ہوکر در حقیقت اہل سنت کا دفاع کرنے اور انہیں شیعہ اکثریت سے بچانے کے لئے داخل ہوئے ہیں! جبکہ بحرین کے انقلاب میں شیعہ اور سنی برابر کے شریک ہیں اور کل رات ہی سنی راہنما اور جمعیة الوعد نامی سیاسی جماعت کی مرکزی کمیٹی کے سربراہ "عبدالحمید مراد" کو کل رات گرفتار کیا گیا؛ آج صبح انہیں چھوڑ دیا گیا اور صرف ایک گہنٹہ بعد ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا اور ان کے خاندان کے افراد کو 24 گھنٹوں کے دوران دو بار شدید خوف و ہراس میں مبتلا کیا گیا۔
یہ البتہ ایک معمولی سا ثبوت ہے کہ بحرین میں سنیوں کی حکمرانی نہیں ہے بلکہ ایک خاندان کی حکمرانی ہے جو سنیوں کا اہل تشیع سے بھی زیادہ وسیع سطح پر استحصال کررہا ہے اور اس کے تعلقات یہود و نصاری سے زیادہ قریب ہیں اور ان کا طرز فکر سیکولرزم اور دہریت پر مبنی ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ کا پانچواں بحری بیڑا بھی بحرین میں تعینات ہے اور اس کے تین ہزار فوجی بھی اس ملک میں موجود ہیں جبکہ امریکیوں اور برطانویوں کو اس ملک میں رہنے اور قیام کرنے کے لئے ویزا کی بھی ضرورت نہیں ہے بلکہ مغربی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے موجود آل خلیفہ اور امریکہ اور برطانیہ کے درمیان معاہدات کی بنا پر وہ بغیر کسی روک ٹوک کے اس ملک میں رہ سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110